کیا مسلمان بچے ”انسان“ نہیں ہیں؟

Category: Other Language 205 views 0

شازیہ طاہر

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل یقینی بنانے کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، کہ یہی بچے جوان ہو کر ملک کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں۔ اگرچہ بچے معاشرے کا کمزور ترین طبقہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے حقوق کے لیے، اپنے خلاف ہونے والے ظلم و تشدد کے خلاف یا اپنی حق تلفی پر آواز نہیں اٹھا سکتے اور کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں کر سکتے۔ بچوں کے انھی حقوق کے لیے1954ء میں اقوام متحدہ نے بچوں کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ دن ہر سال 20 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ بچوں کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کی فلاح و بہبود، ان کے معاشی و معاشرتی حقوق اور صحت و تعلیم کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال مختلف تنظیمیں اور تعلیمی ادارے بچوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ اساتذہ اپنے شاگردوں میں تحریک پیدا کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ ان میں اور دنیا کے دوسرے بچوں میں کیا فرق ہے اور وہ کس طرح خود کو تعلیمی و سماجی لحاظ سے بہتر بنا سکتے ہیں، تاکہ دنیا بھر کے بچوں کے مابین بھائی چارے اور مفاہمت کی فضا کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ عالمی آواز پوری دنیا کے بچوں کے لیے اٹھائی جاتی ہے یا صرف مخصوص ممالک کے بچوں کے لیے؟ یا پھر شام، یمن، مصر، فلسطین، پاکستان، افغانستان اور برما وغیرہ کے مسلمان بچوں کو چھوڑ کر باقی ممالک کے بچے”عالمی“ دائرے میں آتے ہیں۔ یہ کیسی منافقت اور دوغلا پن ہے کہ ایک طرف تو کسی مغربی ملک میں چند لوگوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا میں آہ و بکا شروع ہو جاتی ہے تو دوسری طرف برما اور حلب میں ایک عرصے سے مسلمانوں کی باقاعدہ نسل کشی کی جا رہی ہے. بشار الاسد اور روس کی مشترکہ بمباری میں معصوم اور بےگناہ بچوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، لیکن ان لوگوں کو سانپ سونگھا ہوا ہے۔ کہیں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا۔ ان معصوم بچوں کی یاد میں کوئی موم بتی نہیں جلائی جا رہی۔ کہاں ہیں وہ لوگ جن کے نزدیک انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔ یا پھر حلب اور برما سمیت دوسرے مسلمان بچے ”انسان“ نہیں ہیں. پچھلے چھ سالوں میں صرف شام اور حلب میں ایک ملین سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ 19 لاکھ کے قریب زخمی ہیں اور ایک کروڑ سے زائد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ صرف 13 دسمبر کو ہی 82 افراد کو زندہ جلا دیا گیا جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ کیا یہ تمام لوگ باغی تھے یا ان معصوم بچوں کا تعلق داعش سے تھا؟ کھیلنے کودنے کی، بے فکری سے سونے اور سکول جانے کی عمر میں یہ معصوم بچے یا تو اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر زخمی اور معذور ہو چکے ہیں اور بموں اور دھماکوں کی گھن گرج میں امید و خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حلب میں اس قتل عام پر عالمی سطح پر مکمل طور پر مجرمانہ خاموشی چھائی ہوئی ہے. اس قدر ظلم و نا انصافی اور نسل کشی کے خلاف آخر کیوں لب خاموش ہیں؟ ایک عربی محاورہ ہے : ”یا فرعون! من فرعنک؟؟ قال ما لقیت حدا یردّنی“اے فرعون! تو کیسے اتنا جابر بن گیا؟ اس نے جواب دیا، کیونکہ کوئی مجھے روکنے والا نہیں۔

یہی حال اس وقت ڈیڑھ ارب سے زائد بےجان، بےروح، بےحس مسلمانوں کا ہے جو طاقت اور دولت کے ہوتے ہوئے بھی بشار الاسد کی فرعونیت کو نہیں روک پا رہے. جو برما کے مسلمانوں کی نسل کشی پر بےحسی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں، اسی لیے تو حکمران اتنے ظالم و جابر بن گئے ہیںکہ کوئی اس کو روکنے والا نہیں. 56 اسلامی ممالک اس کے ظلم و بربریت پر خاموش ہیں۔ ہمارےسامنے ہزاروں دکھی ماؤں، تڑپتی بیٹیوں، سسکتی بہنوں، نوحہ کناں بھائیوں، مظلوم اور بے بس باپوں کے چہرے ہیں۔ جو ٹھٹھرتی ٹھنڈی راتوں میں اپنے معصوم بےگناہ شہیدوں کے لاشے لیے سوال پوچھتے رہے کہ انھیں کس جرم میں قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ کون ہیں جو ’لبیک یا حسین‘ کا نعرہ لگا کر، ان سے جینے کا حق چھین رہے ہیں؟ ان ننھی معصوم کلیوں کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے جو بن کھلے ہی مرجھا رہی ہیں؟ کیوں ان کی نسلیں ختم کی جا رہی ہیں؟ کیوں ان کی باعفت اور پاک دامن بیٹیوں کی کی عزت تار تار کی جا رہی ہے؟ کیا پوری امت مسلمہ میں کوئی بھی محمد بن قاسم نہیں جو ان بیٹیوں کا نوحہ سن کر ان کی عزتیں بچانے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ کیوں کسی کے کانوں میں بوڑھے حلبی کی فریاد بھری پکار ”یاایھا المسلمون“ نہیں پڑ رہی؟؟ جو حلب کی ٹوٹی پھوٹی گلیوں میں ہم سب کو پکار رہا ہے۔ لیکن ہمیں کیا؟ ہم سب تو اسلامی تاریخ کو مسخ کرنے میں مصروف ہیں۔ محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، محمود غزنوی اور ٹیپو سلطان کی بہادری کی داستانوں کو من گھڑت کہہ کر اپنی نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں۔ نسیم حجازی کے ناولوں کو جھوٹ قرار دینے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، اور زیادہ دور کیوں جائیں اپنے ملک کی مثال ہی لیں۔ ہم سب کی نظر میں 1965ء کی جنگ کی تاریخی فتح اور ہمارے فوجی بھائیوں کی بہادری کی لازوال داستانیں بھی محض افسانے ہیں. اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
اے خاصئہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری وقت عجب آن پڑا ہے۔

کیا یہ مسلمان جسدِ واحد کی طرح نہ تھے؟ کیا امتِ محمد کا خون اتنا سستا ہےکہ جس کا جی چاہے اسے بہاتا چلا جائے؟ دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامنوں کو حلب کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور کیوں

سنائی نہی دے رہا؟؟
حلب جل رہا ہے، حلب جل رہا ہے
اٹھو رہنماؤ حلب جل رہا ہے
لہو منتظر ہے ہمارے سروں کا
پکارے ہے ملبہ ہمارے گھروں کا
نہ جاگے اگر غفلتوں سے تو سن لو
یہی حال ہوگا تمھارے دَروں کا
ڈرو کہ عذابِ خدا ٹل رہا ہے
اٹھو رہنماؤ حلب جل رہا ہے
کہاں کھو گئی ہے شجاعت تمھاری
تڑپتی ہیں کیوں آج بہنیں تمھاری
سنی آہ باندی کی تھی معتصم نے
نہ باقی رہی اب وہ غیرت تمھاری
کلیجوں سے ماؤں کے خوں چل رہا ہے
اٹھو رہنماؤ حلب جل رہا ہے

Related Articles

Add Comment