مجھے جب بھی کوئی فکری الجھن درپیش ہوتی ہے تو اسے سلجھانے کے لیے اکثر جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید، جمیعت علمائے اسلام کے صدر پیر اعجاز ہاشمی، جمیعت اہلحدیث کے ناظم ِ اعلی ابتسام الٰہی ظہیر، جماعتِ اہل حدیث کے امیر حافظ عبدالغفار روپڑی، جمیعت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا امجد خان، جنرل حمید گل، موقر صحافی عبدالقادر حسن اور بیرسٹر احمد رضا قصوری جیسے صاحبان ِ علم و کشف کو مرشد مان کے ان کے فرموداتِ عالیہ سے دماغی تراوٹ لیتا ہوں۔

اس تناظر میں مجھے اپنے مرشدوں کی اس حق الیقینی پر سو فیصد یقین ہے کہ پشاور کے معصوموں کا قتلِ عام بھارتی سازش ہے۔

لہٰذا دست بستہ درخواست گزار ہوں جنرل راحیل شریف اور جنرل رضوان اختر سے کہ خامخواہ کابل حکومت کے ساتھ اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے میرے صاحبانِ علم اکابرین کی رہنمائی میں کل ہی بھارت پر حملہ کر دیں اور اس کارِ خیر میں اگر مولوی فضل اللہ صاحب مدظلہ کو بھی شریک کر لیا جائے تو کامیابی سو فیصد۔

کاش محترم مجید نظامی حیات ہوتے تو بھارت پر گرائے جانے کے لیے الگ سے رکھے جانے والے ایٹم بم سے بندھ کر کس قدر نہال ہوتے۔

اور ذرا ہندو بنیے کی مکاری تو ملاحظہ فرمائیے۔ ایک طرف ہمارے بچے قتل کرتا ہے دوسری جانب پاکستانی قیادت کو پرسہ بھی بھیجتا ہے۔ اپنی پارلیمنٹ میں دو منٹ کی تعزیتی خاموشی کا ڈھونگ بھی رچاتا ہے۔ پھر دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے پشاور کے شہید بچوں کی یاد میں بھارت بھر کے سکولوں میں لاکھوں کم سنوں سے پرارتھنائیں بھی کرواتا ہے اور از قسم ِ امیتابھ بچن، انوپم کھیر، مہیش بھٹ جیسے فراڈیوں سے ٹسوے بھی بہواتا ہے۔ ایسی سفاکی اور ایسی چالبازی ۔۔توبہ توبہ توبہ۔۔۔

میں نے اپنے کاشف مرشدین کے اتباع میں پچھلے تین دن خاصی ریسرچ کی اور جو چشم کشا حقائق وا ہوئے ان سے میری روح جھنجنا گئی۔

پتہ یہ چلا کہ مکہ کے محاصرے کے دوران کعبہ پر حجاج بن یوسف کی منجینقوں کی سنگ باری کا بہتان، جسے ہم برسوں سے برداشت کرتے آ رہے ہیں، اس کی حقیقت یہ ہے کہ بازنطین کی عیسائی سلطنت کے ایجنٹوں کو امریکی سی آئی اے نے حجاج کے لشکر میں رات کے اندھیرے میں بذریعہ پیراشوٹ اتارا۔ اس سانحے کے بعد تمام ایجنٹ اپاچی ہیلی کاپٹروں میں بطرف قسطنطنیہ فرار ہوگئے اور حجاج نے باقی زندگی اسی فرار کو روکنے میں ناکامی کا ماتم کرتے گزاری۔

اسی طرح حسن صباح کے جن فدائین نے گیارہویں صدی میں سلجوقی سلطنت میں دہشت گردی مچائی، اس کا منصوبہ سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر لینگلی میں تیار ہوا۔ میری تحقیق کے مطابق اس کام کے لیے حسن صباح کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم دی گئی (آج کے حساب سے یہ رقم لگ بھگ دس ارب ڈالر بنتی ہے)۔

اب تک جتنے بھی شیعہ سنی فساد ہوئے ان میں سے 91 فیصد سے زائد برطانوی سیکرٹ سروس ایم آئی سکس کے گوروں نے دیسیوں کے میک اپ میں کرائے۔ ثبوت یہ ہے کہ ایسے کسی فساد کا ماسٹر مائنڈ آج تک نہیں پکڑا گیا۔ مقامی سانولا ہوتا تو کب کا پکڑا جاتا۔

سقوطِ مشرقی پاکستان کے بارے میں تو خیر سب جانتے ہیں کہ کس طرح را نے پہلے رامو چٹو پادھیائے عرف شیخ مجیب سمیت کچھ بنگالیوں کو ورغلا کے ایجنٹ بنایا۔ پھر ان ایجنٹوں نے فوجی وردیاں چرا کر پہلے بنگالیوں کو اور پھر مکتی باہنی کا میک اپ کر کے غیر بنگالیوں کو مارا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سات کروڑ بنگالیوں میں سے ننانوے اعشاریہ نو نو فیصد سے بھی زائد سچے پاکستانی تھے۔ اور 16 دسمبر کو مشرقی پاکستان کا کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا جہاں پاکستان کے ٹوٹنے پر سب پھوٹ پھوٹ کے نہ روئے ہوں۔( یقین نہیں آتا تو اس دور کے کسی بھی باوردی یا بنا وردی مغربی پاکستانیے کی یاداشتیں پڑھ لیجیے۔)

سن 70 کے زمانے کی ہی اخباری فائلیں چھانتے چھانتے میں چھت سے جا لگا کہ جسے تاریخ ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے جانتی ہے وہ دراصل گھاسی رام تھا۔ بھٹو نے ایک جانب تو اپنے سرحد پار آقاؤں کے کہنے پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں گھناؤنا کردار ادا کیا اور پھر اپنے ہی ہینڈلرز سے 90 ہزار قیدی چھڑوا کے محبِ وطن پاکستانیوں کے سامنے سرخرو بننے کی اپنی سی کوشش کی۔

گرو جی کرشنا مورتی سے ہپناٹزم کی تربیت لینے والے بھٹو نے بھارت سے ہزار سال تک جنگ کا نعرہ لگوا کے سادہ لوح پنجابی اور سندھی مسلمانوں کے ووٹ دھوکے سے حاصل کر لیے مگر دلی کے احکامات کے مطابق مشرقی پاکستان سے ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ دھوکہ بہت دیر نہیں چل سکتا۔ بالآخر اسے رسے پر جھولنا ہی پڑا اور پھانسی دینے سے پہلے اس کی مسلمانی بھی چیک کی گئی۔ (اس سارے ڈرامے کی بابت پہلے پروفیسرخورشید احمد اور پھر پنڈی جیل کے پرانے عملے سے رابطہ کیجیے)۔

اور کسے نہیں معلوم کہ نجیب حکومت کے خاتمے کے بعد کابل پر مجاہدین کے ایک گروہ کے قبضہ ہوتے ہی جس دوسرے گروہ نے شہر پر گولہ باری کر کے اینٹ سے اینٹ بجائی وہ گلبدین حکمت یار کے لوگ تھوڑا تھے۔ دراصل کے جی بی کے پشتو بولنے والے سفید روسی تھے جو مجاہدین کے ہاتھوں میدانِ جنگ میں اپنی شکست کا انتقام افغان مجاہدین کو لڑوا کے لینا چاہتے تھے۔ ( فاتح جلال آباد مرشد حمید گل تو چشم دید ہیں)۔

کون نہیں جانتا کہ کوئٹہ کے ہزارہ لوگوں کے قتلِ عام کے پیچھے ولادی میر پوتن کا ہاتھ ہے جسے آج تک افغانستان میں اپنی عبرت ناک قومی شکست نہیں بھولی۔ ( یقین نہ آئے تو دفاعِ پاکستان کونسل کے سرکردہ رہنما ملک اسحاق صاحب سے پوچھ لیجیے۔)

کسے نہیں معلوم کہ ہر بلوچ پاکستان پر جان دیتا ہے اور ہر بلوچ جانتا ہے کہ را کس بے دردی سے انھیں پاکستان سے والہانہ محبت کے جرم میں قتل کر رہی ہے ۔( یقین نہ آئے تو ہر دلعزیز بلوچ رہنما شفیق مینگل وغیرہ سے پوچھ لیجیے)۔

فوجیوں، فرنٹئیر کور اور پولیس کے جوانوں کے سر قلم کرنے کی دلخراش وڈیوز ہوں کہ جی ایچ کیو، کامرہ اور مہران ایر بیس، نیول ڈاک یارڈ، مناواں پولیس اکیڈمی ہو یا واہگہ چیک پوسٹ پر حملے یا پھرممبئی حملے، ہر واردات کا کھرا نئی دہلی، تل ابیب اور واشنگٹن کی طرف جاتا ہے۔ ہر واردات کے پیچھے ایک لارنس آف عربیہ، ایک ایلیا کوہن، ایک موہن لال کھڑا ہے۔ بس دیکھنے والی نگاہ چاہیے۔

آپ خود ہی بتائیے کہ جس نبی نے یہ فرمایا کہ وہ مسلمان نہیں جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان کا جان و مال محفوظ نہیں اور جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ تو ایسے نبی کو ماننے والے کس طرح ان احکامات سے سرتابی کر کے شاتمِ رسول بننے کا سوچ بھی سکتے ہیں۔

پس ثابت ہوا کہ آرمی پبلک اسکول جیسے قتلِ عام کا کوئی گنہگار سے گنہگار مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ خونِ مسلم کی ارزانی گر ہے تو یہود و نصاری و ہنود کے سبب۔ کاش تینوں کسی طرح ختم ہو جائیں تو مسلمان بھی امن و سکون و محبت و بھائی چارے کو پروان چڑھانے کے قابل ہو سکیں۔ ویسے بھی جوڑ برابر کا نہیں۔ ایک طرف ہم سادہ لوح اور دوسری جانب مکار و منافق و سفاک مسلمان دشمن۔۔۔یا اللہ رحم فرما اور ہمیں ایسے مردود دشمنوں سے بچا۔

میں اپنے تمام مرشدوں کا شکرگزار ہوں کہ انھوں نے حقائق کا پردہ چاک کر کے مجھ عاصی کی آنکھیں کھول دیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ شاید اسے کوئی طنزیہ تحریر سمجھیں۔ کئیوں کو گمان ہو کہ میرا تاریخی و تحقیقی شعور دراصل جہالت کا نقطۂ انجماد ہے۔ بہت سے مجھے سمجھائیں گے کہ کیا بکواس ہے ایم آئی سکس، موساد، سی آئی اے وغیرہ صدیوں پہلے کہاں وجود رکھتے تھے۔

بس اتنا عرض ہے کہ جب نریندر مودی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ ایٹم بم دراصل مہا بھارت کے زمانے میں بنا۔ جب علامہ طاہر القادری فرمائیں کہ وہ چودہ برس امام ابو حنیفہ کے شاگرد رہے اور جب پاکستان کی ہر درسی کتاب یہی بتائے کہ محمد بن قاسم سے پہلے برِصغیر میں تہذیب کے نام پر ککھ بھی نہیں تھا۔

اور جب میرے محلے کی مسجدِ غوثیہ کے قاری جان محمد صاحب منبرِ رسول پر بیٹھ کر بغیر کسی تاریخی و فقہی حوالے کے کہیں کہ دوزخی کا سر جس گرز سے کچلا جائے گا اس کا وزن اس زمین کے برابر اور اس کی لمبائی زمین سے چاند تک کے فاصلے کے برابر مقرر کی گئی ہے اور ہر جنتی کو ہم گنہگاروں سے سات ہزار گنا زائد قوتِ مردانہ عطا کی جائے گی تو پھر میری بات کا بھی یقین کر لیجیے کہ گروہ ِ خوارج دراصل سی آئی اے کا ایج۔۔۔